Friday, 26 December 2014

اچھے مدرّس کے اوصاف (24-12-2014)

مدرسہ اشاعت الاسلام کورنگی کے اساتذہ ومعلّمات کے ساتھ نشست
اچھے مدرّس کے اوصاف (24-12-2014)

اسوۂ حسنہ کا تقاضا (26-12-14)

اسوۂ حسنہ کا تقاضا (26-12-14)

Monday, 22 December 2014

مسلمان کی عظمت(19-12-2014)

مسلمان کی عظمت(19-12-2014)

Friday, 12 December 2014

ماہِ صفر اور عیقدهٔ توحید(12-12-2014)

ماہِ صفر اور عقیدهٔ توحید(12-12-2014)

Monday, 8 December 2014

ماہِ صفر - توہّم پرستی اور شادیوں میں فضول خرچی(5-12-2014)

ماہِ صفر - توہّم پرستی اور شادیوں میں فضول خرچی(5-12-2014)

Friday, 28 November 2014

بد گمانی، تجسّس اور غیبت کے گناہوں سے بچیئے(28-11-2014)

بد گمانی، تجسّس اور غیبت کے گناہوں سے بچیئے(28-11-2014)

Wednesday, 26 November 2014

کامیابی کے چار اوصاف اور دنیوی مال ومتاع (25-11-2014)

کامیابی کے چار اوصاف اور دنیوی مال ومتاع (25-11-2014)
سنیے
ڈانلوڈ کیجیے

Friday, 21 November 2014

توبہ اور اللہ کا کرم (21-11-2014)

توبہ اور اللہ کا کرم(21-11-2014)

Sunday, 9 November 2014

عفو ودرگذر اور دلوں کی صفائی (7-11-14)

عفو ودرگذر اور دلوں کی صفائی(7-13-2014)

Sunday, 2 November 2014

ڈاؤنلوڈ کیلنڈر برائے سال 1436ھ مطابق 2014ء-2015ء

ڈاؤنلوڈ ہجری کیلنڈر برائے سال 1436ھ مطابق 2014ء-2015ء گوگل ڈرائیو میں دیکھیےاس کیلنڈر کو مدارس اور دیگر تعلیمی اداروں کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ اس کو تیار کرنے میں جامعۃ الرشید کے استاذ مولانا سلطان عالم صاحب کی تحقیق سے مدد لی گئی ہے۔ فلکیات سے متعلق ان کا تمام تحقیقی کام یہاں موجود ہے۔
اس کیلنڈر میں ہجری، عیسوی تاریخیں اور ان کے سامنے دن دیئے گئے ہیں، اور یاد داشت لکھنے کے لیے جگہ بھی چھوڑی گئی ہے۔ یہ کیلنڈر مدارس، تعلیمی ادارے، علماء، طلبہ اور عوام الناس کے لیے یکساں مفید ہے۔
ڈانلوڈ کیجیے معہد کی ویب سائٹ سے || گوگل ڈرائیو سے۔

Saturday, 1 November 2014

بوادر النوادر از حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ

بوادر النوادر از حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
پڑھیے/ڈانلوڈ کیجیے - سائز : 25 م ب
کوالٹی: میڈیم
اعلی کوالٹی (139 م ب) کے لیے یہاں کلک کریں

Friday, 31 October 2014

Aashuraa-or-ummate-muslima-ki-shirkiyat-(31-10-2014)

عاشوراء اور امتِ مسلمہ کی شرکیات (31-10-2014)

Wednesday, 29 October 2014

باقیات فتاویٰ رشیدیہ

باقیات فتاویٰ رشیدیہ
پڑھیے/ڈانلوڈ کیجیے - سائز : 79 م ب

Friday, 24 October 2014

Zulm-or-Ahle-islam-ki-zimmadari(24-10-2014)

ظلم اور اہلِ اسلام کی ذمہ داری(24-10-2014)

Monday, 20 October 2014

Nikaah-ek-masnoon-or-asaan-amal(19-10-2014)

نکاح ایک مسنون اور آسان عمل (18-10-2014)

Friday, 10 October 2014

Apas-ka-nizaa-o-shiqaq-azab-e-khudawandi-he(10-10-14)

آپس کا نزاع وشِقاق عذابِ خداوندی ہے(10-10-2014)

Qurbani-ka-taqazaBayanEidulAzha(06-10-14)

قربانی کا تقاضا-بیانِ عید الاضحیٰ 1435ھ(06-10-2014)

Saturday, 4 October 2014

Qurbani-or-ayyame-tashriq-k-mutalabat-03-10-2014

قربانی اور ایامِ تشریق کے مطالبات (03-10-2014)

Friday, 26 September 2014

Ashra-e-Zilhajja-k-ahkam-o-masail(26-09-2014)

عشرۂ ذي الحجہ کے مسائل واحکام (26-09-2014)

Saturday, 20 September 2014

حقوق الاولاد-حق 07- تعلیم وتربیت وحقوقِ بنات(20-09-2014)

حقوق الاولاد-07- تعلیم وتربیت وحقوقِ بنات(20-09-2014)

Friday, 12 September 2014

حقوق الاولاد - حق - 6 - تربیتِ اولاد (2) (13- 9 2014)

حقوق الاولاد -06- تربیتِ اولاد (2) (13- 9 2014)

Thursday, 4 September 2014

حقوق الاولاد -05- تربیتِ اولاد-01-(05-09-2014)

حقوق الاولاد -05- تربیتِ اولاد(1)(05-09-2014)

Friday, 29 August 2014

حقوق الاولاد 04 - حقِ تسمیہ( 29- 08 - 2014)

حقوق الاولاد -04 - حقِ تسمیہ( 29- 08 - 2014)

Thursday, 21 August 2014

حقوق الاولاد -3- حق عقیقہ(22-08-2014)

حقوق الاولاد-03- حق عقیقہ(22-08-2014)

Monday, 18 August 2014

حقوق الأولاد -02- حق تحنيك وتبريك(08 - 15 - 2014)

حقوق الأولاد -02- حق تحنيك وتبريك(08 - 15 - 2014)

Thursday, 14 August 2014

Independance Day-14-08-2014

یوم آزادی( 18-08- 2014)
سنیے
ڈانلوڈ کیجیے

Friday, 8 August 2014

اولاد کے حقوق - 01: اذان

اولاد کے حقوق - 01- اذان( 08- 08 - 2014)

Thursday, 7 August 2014

ضربِ مؤمن کو دیا گیا ایک انٹرویو

حضرت شیخ کا انٹرویو جو ضربِ مؤمن میں (یکم اگست 2014ء مطابق 4 شوال 1435ھ کو) شائع ہوا۔

ضربِ مؤمن: اپنے علمی و تحقیقی سفر کے بارے میں بتائیے اور تحقیق و تخریج سے وابستگی کا بھی ذکر کیجیے؟

مولانا نور البشر: تحقیق و تخریج سے میرا تعلق کافی پرانا ہے۔ جب میں درجہ ثانیہ میں تھا تو استاد جی نے اپنے ساتھ لگا لیا، تخصصات کے رجسٹر مرتب کرنے کا کام سپرد کیا۔ اس کے بعد حوالہ جات کی تخریج پر لگا دیا۔اس طرح میں نے طالب علمی کے دور میں ہی تخریج کا کام کرنا شروع کردیا تھا۔ پھر درجہ ثانیہ سے دورہ حدیث تک درس ترمذی کی تخریج و تحقیق میں مصروفیت رہی۔ اس کے بعد دفتری کام بھی سپرد کیے گئے جو اپنی بساط کے مطابق سرانجام دینے کی کوشش کی۔ اس کے بعد حضرت الاستاد مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ نے فتح الملہم کا کام دیاکہ اس کی ترقیم کرو اور صحیح مسلم کی تخریج کرو، کیونکہ فواد عبد الباقی نے طرق کو الگ نمبر نہیں دیے تو ہر طریق کو الگ الگ نمبر دینے کا کہا۔ اس طرح فتح الملہم پر بھی کام کرنے کا موقع ملا۔ فتح الملہم کا وہ حصہ جوعلامہ عثمانیؒ نے لکھا تھا اس کی پہلی 5 جلدیں مکتبہ دارالعلوم نے شائع کیں، ایک جلد کا کام باقی رہ گیا تھا کہ پھر وہ بیروت سے چھپنا شروع ہو گیا، اب مکمل کام بیروت سے چھپ کر آ گیا ہے۔ تو اصل کام فتح الملہم پر ہے یعنی صحیح مسلم کی تخریج اور فتح الملہم کی ترقیم۔ اس میں ضمنا میں نے بعض چیزوں کی تخریج کی ہے، لیکن وہ حکم نہیں تھا اس لیے سرسری اور کہیں کہیں ہے۔ اگر آپ فتح الملہم دیکھیں تو بعض حاشیوں کے آخر میں ’’ن‘‘ یا ’’ن ب‘‘ لکھا ہوا ہے، یہ حواشی میرے لکھے ہوئے ہیں یعنی نور البشر کے نام سے۔اس کے بعد میں دار العلوم سے اشرف المدارس چلا گیا۔ اشرف العلوم میں حضرت مولانا سبحان محمودؒ ’’کی تقریر بخاری‘‘ کی ’’کتاب بدؤالوحی‘‘، ’’کتاب الایمان‘‘ اور ’’کتاب العلم‘‘ پر کام کیا۔ باقی کام میرے جامعہ فاروقیہ آ جانے کے بعد ان کے صاحبزادے نے کیا۔ جامعہ فاروقیہ میں جو مشغلہ ملا، وہ ’’کشف الباری‘‘ کا ہے۔ یہ تقریبا پانچ جلدیں ہیں، اور کشف الباری کی ایک اور جلد پر کام کروں گا۔ کتاب الوضوء کی جلد آنے والی ہے اور کتاب الوضوء ہی کی ایک دوسری جلد پر کام کروں گا۔ یہاں تک میرا کام مکمل ہو جائے گا، آگے کچھ اور ساتھی کام کریں گے۔

ضربِ مؤمن: آپ کو اس تخصص فی الحدیث اور تخصص فی الفقہ کے مشترکہ تخصص کا خیال کیسے آیا؟

مولانا نور البشر: آج سے تقریباً سات، آٹھ سال پہلے تخصص فی الحدیث کے لیے جامعہ فاروقیہ گیا تو حضرت مولانا سلیم اللہ خان دامت برکاتہم اس وقت سفر میں تھے۔ مجھ سے فرمایا: ’’نصاب مرتب کرو اور اس پر کام شروع کرو!‘‘ تو پھر میں نے بنوری ٹاؤن کا نصاب دیکھا اور اپنا نصاب مرتب کیا، اس نصاب کو حضرت کے سامنے بھی رکھا اور پھر ایک دفعہ ہنگو کے مولانا امین صاحب اورکزئیؒسے ملاقات ہوئی۔ میں نے ان کے سامنے یہی نصاب رکھا تو انہوں نے بہت زیادہ حوصلہ افزائی فرمائی۔

ضربِ مؤمن: آپ نے ان حضرات کو صرف حدیث شریف کا نصاب دکھایا تھا یا حدیث و فقہ کا مشترکہ نصاب؟

مولانا نور البشر: صرف حدیث شریف کا نصاب ان حضرات کی خدمت میں پیش کیا تھا۔ پھر میں نے غور کیا کہ ہم جو تخصص فی الحدیث کا نصاب پڑھا رہے ہیں، اس میں کچھ تدریسی کتابیں ہیں اور کچھ تدریب ہے۔ تدریسی کتابوں اور فقہاء کے مواد کا موازنہ کر کے دیکھا تو احساس ہوا کہ ان دونوں کو جمع کیا جا سکتا ہے۔ ایک سال میں فقہ و حدیث کی کتابوں کی مشترکہ تدریس کر لیں اور اس کے ساتھ ہلکی پھلکی مشقیں کر لیں، اس کے بعد اگلے سال بھر پور انداز سے مشقیں ہو جائیں اور پھر مقالہ جات بھی لکھوائے جائیں تو ان شاء اللہ دونوں علوم پر مہارت حاصل ہو جائے گی۔ اس کے بعد جو بھی ساتھی ملا، اس کے سامنے یہ بات رکھی، بعض ہنس کے ٹال دیتے اور بعض دیوانے کی بڑ سمجھ کے نظر انداز کر دیتے اور بعض ساتھی واقعی دلچسپی لیتے، سراہتے اور حوصلہ افزائی کرتے تھے۔

اس طرح دو تین سال آزمائش پر رکھا اور مختلف جگہوں پر یہ بات رکھی تو الحمد للہ شرح صدر ہوتا گیا۔ پچھلے سال جب جامعہ فاروقیہ سے رخصت لے کر یہاں ’’معہد عثمان بن عفان‘‘ میں آیا تو کچھ احباب کا تقاضا ہوا کہ تخصص فی الفقہ اور تخصص فی الحدیث ساتھ ہونا چاہیے۔ اس مدرسہ میں دورہ حدیث شروع ہوئے تین چار سال ہو گئے ہیں، اس لیے اپنے طلبہ کی طرف سے بھی تقاضا تھا اور باہر سے بھی خواہش کا اظہار کیا گیا۔ ساتھیوں نے توجہ دلائی کہ تخصص فی الفقہ ہر جگہ ہو رہا ہے، ہم کیوں نہ فقہ اور حدیث کا مشترکہ تخصص شروع کریں۔ الحمد للہ! ہمارے یہاں دارالعلوم کراچی کے متخصص ساتھی ہیں جو فقہ میں اچھا درک رکھتے ہیں اور کچھ مجھے بھی جامعہ فاروقیہ میں حدیث کا تجربہ ہو گیا تھا، بلکہ جامعہ فاروقیہ میں جہاں میں نے تخصص فی الحدیث شروع کیا وہاں دو تین سال میں نے اکیلے چلایا تھا، کوئی معاون نہیں تھا، تو اس طرح ہمت ہوئی اور ہم نے تخصص فی الفقہ و الحدیث کا نصاب مرتب کر لیا۔ یہ ایسا نصاب ہے جوجامعہ فاروقیہ کے نصاب سے بھی ذرا الگ تھلگ ہے۔ ایک سال ہمارا تجرباتی گزرا ہے، جس سے اندازہ یہ ہوا کہ الحمد للہ! اچھا گزرا ہے۔

اب ہمارے بچے جو استفتاء ات لکھ رہے ہیں یا تدریبی مشق کر رہے ہیں، یہ مشق اس طرح ہو رہی ہے کہ جوابات میں دلائل کے لیے پہلے قرآن کریم کی آیات ذکر کرتے ہیں، صریح حدیث کا جزئیہ مل جائے تو بھر پور تخریج کے ساتھ اس کا جواب دیتے ہیں اور اس کے بعد فقہی کتب سے جزئیات نکال کر اس میں دلائل جمع کر دیتے ہیں۔ اب ان طلبہ کے لیے حدیث کی تخریج کوئی چیز اجنبی نہیں ہے۔ یہ طلبہ کسی بھی حدیث کی تخریج کر لیتے ہیں، البتہ ابھی چونکہ پہلا سال ہے اس لیے اس قدر مشق نہیں ہوئی کہ حدیث کی اسنادی اعتبار سے تصحیح یا تضعیف کر لیں، یہ مشق ابھی باقی ہے، یہ ان شاء اللہ آئندہ سال ہو جائے گی۔

ضربِ مؤمن: حدیث اور فقہ کو جمع کر کے دو سال میں تخصص کرانے کا بنیادی خیال کس وجہ سے آیا؟

مولانا نور البشر: بنیادی وجہ یہ تھی کہ حدیث شریف پڑھنے والے یا تخصص فی الحدیث کرنے والے اپنے آپ کو ماورائی مخلوق سمجھنے لگے تھے، اور فقہاء کو کسی معاملے میں در خور اعتناء نہیں سمجھتے تھے۔ فقہاء کے کلام کو معمولی سمجھتے تھے، فقہ کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی تھی۔ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ فقہ میں تخصص کرنے والوں سے حدیث کی معمولی سی بات پوچھ لیں تو وہ ہکا بکا رہ جاتے ہیں۔ کبھی ادھر دوڑتے ہیں کبھی ادھر دوڑتے ہیں کہ اس حدیث کا کیا مطلب ہے؟ یہ حدیث کہاں سے لائیں گے؟ اور اس کا حکم کیا ہو گا؟ یہ سخت پریشانی تھی جب کہ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے الگ ہونے والی نہیں ہیں، ہمارے متقدمین عموما حدیث سے استدلال کر رہے ہیں اور تخریج حدیث بھی کر رہے ہیں، اس کی علل کو بھی بیان کر رہے ہیں۔ ہم نے سوچا کہ ان بچوں کے سامنے ایسا نمونہ پیش کر دیں کہ آگے ان کو ایک راستہ مل جائے۔ تحقیق کا راستہ معلوم ہو جائے اور یقین جانئے اس مقصد کے لیے دو سال کی قربانی کوئی بڑی بات نہیں۔ تخصص فی الحدیث کا مطلب یہ ہوا کہ وہ صرف فن حدیث میں ہی نہیں بلکہ فن سیر اور فن تاریخ کو بھی مکمل طور پر لے لیتا ہے اور اس کی چھان پھٹک کر لیتا ہے اور فن تاریخ کی وجہ سے جو اعتراضات اسلام پر وارد ہوتے ہیں، ان سب کی تحقیق بھی ان سب کے ضمن میں ہو جاتی ہے۔

ضربِ مؤمن: دو سال میں اس نصاب کو پڑھانے میں دو باتوں کا امکان رہتا ہے: یا تو طالب علم پر بوجھ بہت پڑتا ہے یا کوئی ایک چیز کم رہ جاتی ہے اس کو کیسے حل کیا؟

مولانا نور البشر: یقینا آپ صحیح فرما رہے ہیں کہ بوجھ سمجھا جائے گا کیونکہ کہیں بھی اس کی نظیر نہیں ہے، لیکن دوسری طرف ہم یہ دیکھتے ہیں کہ بعض ایک سالہ تخصص کرانے والے 18,18 گھنٹے کام لیتے ہیں 20,20 گھنٹے بھی کام لیتے ہیں، اور ان پر بوجھ اس طرح ڈالا جا رہا ہے کہ دو سال، تین سال کا کام ایک سال میں لیا جاتا ہے۔ تو ہم یہ کیوں نہیں کر سکتے۔ اپنے ان ساتھیوں پر غیر محسوس انداز سے بوجھ ڈال دیں اور بوجھ کو ہلکا کرنے کے لیے ان سے تسلی کی بات کرتے رہیں۔ میں آپ کو ایک عجیب واقعہ بتاؤں:

ہم دارالعلوم میں درجہ اعدادیہ میں پڑھتے تھے۔ ایک سال کا درجہ اعدادیہ ہوتا تھا اور ایک سال میں ہم نے 18 کتابیں پڑھیں ان 18 کتابوں میں جہاں اردو نصاب وغیرہ ہے، وہاں آداب المعاشرت، آداب النبی، تعلیم الاسلام کے چار حصے اور معلوم نہیں کیا کیا کتابیں تھیں، ساری کی ساری زبانی ہوتی تھیں اور اس وقت طریقہ یہ تھا کہ ایک کتاب ختم ہوتی تھی، مولانا شمس الحق جیسی شخصیت امتحان لیتی تھی، صحیح ہوتا تو آگے بڑھنے دیتے ورنہ بڑھنے نہ دیتے۔ تو ہمیں کبھی بوجھ محسوس نہیں ہوا کہ ہم نے 18 کتابیں پڑھیں ہیں اور ان کا امتحان دیا ہے۔

دراصل یہ استاد پر ہے کہ کتنی دلچسپی سے کتاب پڑھاتا ہے اور طلبہ کے اندر فن منتقل کر دیتا ہے۔ اگر استاد کے اندر دلچسپی ہو اور ماہر ہو تو میں سمجھتا ہوں کہ بوجھ بالکل نہیں ہو گا۔ بوجھ تب ہو گا جب آپ طلبہ کو بالکل ہی اکیلا چھوڑ دیں، کہ بھائی تم جو چاہو کرو! تخصص کا مطلب یہی ہے کہ خود محنت کرو اور حقیقت بھی یہی ہے کہ تخصص خود محنت کرنے کا نام ضرور ہے، لیکن استاد کی رہنمائی کے بغیر یہ طلبہ آگے بڑھ ہی نہیں سکتے۔ تو اگر اساتذہ ماہر اور تجربہ کار ہوں (ماشاء اللہ! ہمارے ہاں فقہ کے اساتذہ کا 20,25 سالہ تجربہ ہے) اس اعتبار سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ جس انداز سے وہ لے کر چلیں گے تھوڑی سی رہنمائی بھی بہت ہو جائے گی۔

ابھی ہمارے کوئٹہ کے ایک ساتھی نے احکام القرآن للجصاص پر کام کیا ہے۔ انہوں نے پورا کام کر لیا، اس کے بعد مجھے دیکھنے کا کہا، لیکن کام بہت بڑا تھا اس لیے میں تصدیق نہیں کر سکتا تھا جب تک ایک ایک حرف نہ دیکھ لوں۔ مجھے یہاں وقت نہیں مل رہا تھا، میں ان کے پاس چلا گیا۔ میں نے کہا: میں 5,6 دن آپ کے ساتھ جم کر بیٹھوں گا، ادھر ادھر نہیں نکلوں گا، اگرچہ میں اس میں کامیاب نہیں ہوا، لیکن میں ان کے ساتھ دو دن ایک رات بیٹھا تو اس کی آنکھیں کھل گئیں باوجودیکہ وہ ساتھی متخصص فی الفقہ ہے، لیکن حدیث کا کام کرنے کا طریقہ نہیں آتا تھا۔ تو اس اللہ کے بندے نے پھر از سر نو کام شروع کیا اور کہا! مجھے ایک نئی زندگی مل گئی ہے۔ اب وہ کام دوبارہ کر کے لایا ہے۔ تو اگر اساتذہ صحیح رہنمائی کر دیں اور ان کو طریقہ کار بتا دیں تو میں سمجھتا ہوں کہ آگے بڑھنے کے لیے دروازے کھلے ہیں، اور ہمارے طلبہ کام کر کے دکھا سکتے ہیں، باقی اللہ تعالی کام لینے والے ہیں وہ کسی سے بھی کام لے سکتے ہیں۔

ضربِ مؤمن: اس میں آپ نے تین حصے تدریس، مطالعہ اور تخریج کے ذکر فرمائے ہیں، تدریس کے لیے تو اساتذہ موجود ہیں، مطالعہ اور تخریج کی نگرانی کے لیے کیا ترتیب رکھی ہے؟

مولانا نور البشر: ہم نے ان طلبہ کے لیے جو اوقات تعلیم بنائے ہیں ان میں سے کسی بھی وقت میں ان کو خالی نہیں چھوڑا، یا تو تدریسی گھنٹے موجود ہیں یا وہاں نگران استاد موجود ہیں۔ اس طرح طلبہ ان کے سامنے مطالعہ بھی کرتے ہیں، تخریج بھی کرتے ہیں اور فتاوی بھی لکھتے ہیں۔ پھر ان کی جانچ پڑتال بھی ہوتی ہے۔ اس طرح ان کو کسی بھی وقت خالی نہیں چھوڑا جاتا، صرف تدریسی رہنمائی نہیں ہے بلکہ یہاں پر تدریبی رہنمائی بھی ساتھ ساتھ ہے۔

ضربِ مؤمن: تعلیمی اوقات سے آپ کی کیا مراد ہے؟

مولانا نور البشر: مثلاً اوقات تعلیم 8 بجے سے 12 بجے تک اور پھر ظہر کے بعد، اسی طرح مغرب اور عشاء کے بعد، یہ تمام اوقات تعلیم جو رسمی ہیں۔ ان تمام میں نگرانی ہے باقی ترغیب ہم یہ دیتے ہیں کہ بھئی تخصص کا سال ہے، اس میں سونا کم ہے اور تقلیل منام کا مجاہدہ یہاں کرنا ہے اور تقلیل منام کرواتے ہیں۔ ضربِ مؤمن: فقہ اور افتاء والوںکی تمرین میں تو ابتدائی طور پر استاد سوال دیتا ہے، پھر باہر سے آنے والے سوالات بھی دیے جاتے ہیں تو آپ کے ہاں کیا ترتیب ہے؟ مولانا نور البشر: فتاوی کے سلسلے میں تو ہمارے ہاں بھی یہی طریقہ کار ہے البتہ حدیث کے سلسلے میں ہم ان کو ایسی کتاب سے جس کا ان کو صحیح طور پر پتہ نہ چلے، صرف حدیث نقل کر کے دیتے ہیں، صرف متن دیتے ہیں اور اس پر اعراب، تحقیق اور حاشیہ کا نام و نشان تک نہیں ہوتا یعنی غیر محقق ہوتی ہے، کہ اس پر تخریج کرو۔ شروع میں صحاح ستہ کی تخریجات ہوتی ہیں اس کے بعد پھر توسع ہوتا چلا جاتا ہے۔ ضربِ مؤمن: آ ج کل تو مکتبہ شاملہ ہے، طلبہ فورا حوالہ جات نکال لیتے ہوں گے؟ مولانا نور البشر: تمام طلبہ پر پابندی ہے کہ کوئی بھی کمپیوٹر استعمال نہ کرے، کمپیوٹر کا استعمال زہر قاتل ہے۔ البتہ مقالے میں جب پہنچتے ہیں تو اس وقت تک کافی مشق ہو چکی ہوتی ہے تو اس وقت شاملہ وغیرہ کی اجازت ہے دوسرے سال میں، اس سے پہلے نہیں ہے۔

ضربِ مؤمن: اس طرح کا تخصص اگر پرانے مشرفین اپنے ہاں جاری کرنا چاہیں، کچھ مناسبت ہو تو اس میں کیا بنیادی اصول ہیں، جن کی طرف آپ رہنمائی کریں گے، اپنے آپ کو تیار کرنے کے لیے کیا کریں، پھر طلبہ کی نگرانی کے دوران کیا اصول اپنائیں؟

مولانا نور البشر: میں تو آپ سے زیادہ ناواقف ہوں، میں تو صرف اتنی بات کہہ سکتا ہوں کہ ایک استاد اپنے جذبے سے جو کام کر کے دکھاتا ہے اس کے اندر اس کے اپنے اجتہاد کا بہت زیادہ دخل ہوتا ہے، اصول موضوعہ کام نہیں آتے، کوئی بھی استاد کسی بھی فن کے اندر اپنے طالب علم یا شاگرد کو آگے بڑھانا چاہے تو اس کو اجتہاد کرنا پڑے گا۔ اپنی تدریسی زندگی میں میرا یہی تجربہ ہے، یہی کرنا پڑے گا، اجتہاد کرنا ہو گا۔ باقی اصول موضوعہ میرے پاس ہیں نہیں۔

ضربِ مؤمن: مطالعہ کی نگرانی کا کیا نظم ہے؟ ہر طالب علم کے سامنے کتاب ہوتی ہے، ہر طالب علم سے سنا جاتا ہے؟

مولانا نور البشر: جی! ہر طالب علم سے نہ صرف سنا جاتا ہے، بلکہ باقاعدہ امتحان لیا جاتا ہے، مطالعے کی کتب کا بھی تحریری امتحان ہوتا ہے۔

ضربِ مؤمن: مقالے کی کیا نوعیت ہوتی ہے؟

مولانا نور البشر: ابھی تک تو ہمارا پہلا سال گزر رہا ہے، جب دوسرا سال آئے گا تو اس کے لیے ہم نے یہ صورت سوچی ہے کہ کوئی ایسا مقالہ ہو جو جامع بین الحدیث و الفقہ ہو، ایسے موضوعات دیے جائیں گے جو دونوں چیزوں کا جامع ہو۔ ضربِ مؤمن: بڑی بڑی شخصیات جنہوں نے آپ کے اس جمع بین الحدیث و الفقہ کے تخصص کے نظریے کی تائید کی ہو نصاب دیکھنے کے بعد، یا یہاں تشریف لائے ہوں حوصلہ افزائی کی، ان کے بارے میں کچھ بتائیں گے؟ مولانا نور البشر: ان میں دارالعلوم سے مفتی عبدالمنان صاحب یہاں تشریف لائے، انہوں نے اس کو دیکھا تو کافی خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا۔ مولانا عزیز الرحمٰن صاحب وغیرہ کو ہم نے اپنا نصاب دکھایا انہوں نے بھی اطمینان کا اظہار فرمایا۔

ضربِ مؤمن: تخریج دیکھنے والے کتنے اساتذہ ہیں؟

مولانا نور البشر: فقہ کو دیکھنے والے 3,4 استاد ہیں، اور حدیث کو میں اکیلا دیکھتا ہوں، فقہ کے جوابات آخر میں میں بھی دیکھتا ہوں، اگرچہ اس کا اہل نہیں، لیکن ساتھیوں نے کہا تو تعمیل حکم کے لیے دیکھتا ہوں۔

ضربِ مؤمن: اس تخصص میں بنیادی زور کس موضوع پر زیادہ دینا چاہیے، جس سے طلبہ آگے کام کریں، تدریس، مطالعہ اور تخریج میں کس پر؟

مولانا نور البشر: اصول حدیث جو ہمارے ہاں پڑھائے جاتے ہیں، وہ سرسر ی پڑھا کر ختم کر دیتے ہیں، گہرائی سے نہیں پڑھائے جاتے۔ سب سے پہلے اس کی طرف توجہ دینی چاہیے، اور مطولات کو سامنے رکھ کر تدریس کرنی چاہیے۔ دوسرے دورہ حدیث میں ہمارے ہاں حل کتاب کا مطلب فقہی مباحث کو حل کرنا سمجھا جاتا ہے، اس کے بعد قال ابو عبد الرحمن ہو یا قال ابو عیسیٰ ہو ان کو کما حقہ حل نہیں جاتا، اور ظاہر ہے یہ علل حدیث سے متعلق چیزیں ہیں، اور اصول حدیث سے مناسبت ہو جائے تو دوسرے نمبر پر علل حدیث کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ اس لیے علل حدیث کی کتابوں پر ترکیز ہونی چاہیے۔ اسی طرح حدیث کو فقہی طریقے سے رد کرنا فطری نہیں، بلکہ محدثین کے اصول کے مطابق رد کرنا چاہیے، اسی جہت سے کلام ہو، تردید ہو یا تائید ہو، لیکن ساتھ ساتھ اصول فقہ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، ان اصولوں کو پیش نظر رکھنا چاہیے، لیکن اصول حدیث کو مقدم رکھنا چاہیے۔

ضربِ مؤمن: مطالعہ میں آپ طالب علم کو کن کتابوں کا اہمیت سے مطالعہ کرواتے ہیں؟

مولانا نور البشر: بعض جگہوں میں یہ ہوتا ہے کہ حنفی مذہب کو ترکیز کر کے آگے بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ہم نے اس بات کو پیش نظر نہیں رکھا۔ اس لیے کہ حدیث، حدیث ہے اور اصول حدیث کی رو سے حنفیت اور شافعیت کی تقسیم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بہر حال علماء کے اقوال اپنی جگہ ہیں، امام ابو حنیفہ کے اصول یہ ہیں اور امام شافعی کے اصول یہ ہیں وغیرہ وغیرہ۔ یہ اپنی جگہ برحق ہے، لیکن ہم نے ترکیز اس کے اوپر نہیں رکھی کہ امام ابو حنیفہ کا ہی مذہب لے کر ہم چلیں گے۔ اس وجہ سے ہم عمومی اصول حدیث کی کتابوں کو زیادہ دیکھتے ہیں، مثلا توجیہ النظر، فتح المغیث ہے، ان کو زیادہ توجہ دیتے ہیں، کیونکہ تحقیقی اور محرر کتابیں یہی ہیں۔ اس کے بعد ہم حنفی اصول فقہ کی کتاب ’’کتاب السنۃ‘‘ پر توجہ دیتے ہیں، تاکہ ہم حنفیت کے اصول کو نظر انداز نہ کر سکیں۔

ضربِ مؤمن: حدیث اور فقہ دونوں کا اکٹھا تخصص اگر ہو تو طلبہ کا اچھا اور مناسب عدد کیا ہونا چاہیے؟
مولانا نور البشر: میرے خیال میں 15,20 سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے، اس سے زیادہ کنٹرول کرنا کافی مشکل ہے، کیونکہ کام زیادہ ہے اور وقت کم ہے اور استاد کو کافی وقت دینا پڑتا ہے۔ تو 15,20 کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ نابغین کے بارے میں کہہ نہیں سکتا۔

ضربِ مؤمن: احکام القرآن پر کتنا کام ہو چکا ہے؟

مولانا نور البشر: اس کتاب پر دراصل ایک طالب علم کا کام ہے۔ انہوں نے مجھ سے مشورہ کرنا شروع کیا تو میں نے ذرا اس کو سختی کے ساتھ لیا، تو اب آگے جانے ہی نہیں دے رہا جب تک میں مطمئن نہ ہو جاؤں۔ مخطوطات پر تحقیق کا اصول کیا ہے اس کے بارے میں طالب علم کو پڑھایا۔ اس کے بعد طروق کو کیسے ضبط کرنا ہے؟ ان چیزوں کو بتانا پڑا، اس کے بعد تخریج حدیث کا طریقہ کیا ہے؟ اور خود مصنف نے جو حدیث ذکر کی ہے اسی کی تخریج کرنی ہے یا اس سے ملتی جلتی چیز کی تخریج کرنی ہے؟ ایسی بہت ساری غلطیاں تھیں جن کی نشاندہی میں نے کی۔ اس وجہ سے وہ ازسر نو کر کے لائے تھے۔ ماشاء اللہ! میں دیکھ رہا ہوں اچھا کام نظر آ رہا ہے، باقی زاد الفقیہہ کا کام مجھے دکھایا ہے، ماشاء اللہ! اچھا کیا ہے۔

ضربِ مؤمن: تخصص فی الحدیث میں حنفیہ کی تائید، ان کے موقف کی تقویت کے لیے بالاستقلال کچھ رکھا ہے؟

مولانا نور البشر: نہیں! بالاستقلال سامنے کچھ نہیں رکھا، اور میں اس کو ضروری اس وجہ سے نہیں سمجھ رہا تھا کہ جب ہم اصول و ضوابط ساتھیوں کو پڑھا دیں گے، اور ہم حنفی ماحول میں رہتے ہیں تو امید یہ ہے کہ یہ خود اس کو لے کر آگے بڑھیں گے۔ مستقل رکھنے کا ایک بہت بڑا نقصان یہ ہے کہ آپ دیکھیں انوار الباری شرح صحیح البخاری مولانا احمد رضا بجنوری کی، وہاں ہر دو تین صفحے پر جہاں امام صاحب کا نام آ جائے وہاں دو تین صفحے امام صاحب کے مناقب پر لکھ دیتے ہیں۔ جب کہ موضوع کتاب وہ ہے نہیں، تو آپ صرف حنفیت کو کیوں لے رہے ہیں؟ تو اس سے میرے خیال میں تاثر صحیح نہیں ملتا۔ اس لیے ہم یہ چاہتے ہیں کہ اعتدال اس طرح رہے کہ ہم تو حنفیت کو چھوڑنے والے نہیں، اور باقی اصول ہمارے ہاتھ آجائیں، حنفی اصول بھی ہمارے سامنے آجائیں، تو ان اصولوں کی بنیاد پر ہم بحث کر سکتے ہیں۔

اس صورت میں تعصب نہیں رہتا، اپنے مذہب پر ہم متصلب ہیں، لیکن تعصب نہیں رہتا، اور دوسری صورت میں تعصب کی وجہ سے ان کے جائز دلائل کو بھی رد کرنے کی صورت پیدا ہو جاتی ہے جب کہ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ ہمارے منصف مزاج مصنفین میں علامہ زیلعیؒ شمار ہوتے ہیں، وہ کہہ دیتے ہیں کہ حق یہ ہے کہ ان کی دلیل صحیح ہے، اسی طرح نوویؒ اور خطابیؒ ہیں یہ سب باوجودیکہ اپنے اپنے مذہب کی طرف کافی میلان رکھتے ہیں اور ترجیح بھی دے دیتے ہیں اس کے باوجود انصاف سے کام لیتے ہیں۔ تو اس اعتدال کو پیدا کرنے کے لیے ہم نے با قاعدہ مستقل طور پر ’’مستدلات حنفیہ‘‘ کو مو ضوع نہیں بنایا، البتہ اعلاء السنن کو سامنے رکھا ہے اسی طرح تلخیص الحبیر اور نصب الرایہ کو بھی سامنے رکھا ہے تا کہ نمونہ ہمارے سامنے آئے کہ قوت دلیل کی بنیاد پر بحث کس طریقے سے کرتے ہیں؟

ضربِ مؤمن: پاکستان میں تخصص فی الحدیث کہاں کہاں ہو رہے ہیں؟

مولانا نور البشر: اصل تو مرکز بنوری ٹاؤن ہے، اس کے بعد جامعہ فاروقیہ میں شروع ہوا ہے۔ بنوریہ میں بھی ہے، اشرف المدارس میں بھی ہے، اور یہاں سے مولوی ساجد صاحب فاروقیہ سے گئے ہیں انہوں نے بھی اسلام آباد میں شروع کر رکھا ہے، پشاور میں ہمارے ایک ساتھی نے شروع کیا تھا، لیکن برقرار نہیں رکھ سکے ماحول اور حالات کی وجہ سے۔ وہ بھی اچھے ساتھی ہیں دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اب ماشاء اللہ سے جامعۃ الرشید والے حضرات شروع کرنا چاہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرمائے۔ میں بھی ہر ممکن تعاون کے لیے حاضر ہوں۔

"شييء من حياتي" بقلم الشيخ نور البشر حفظه الله تعالیٰ

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله محمد بن عبد الله، وعلى آله وصحابته وتابعيهم ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين.

الاسم: نور البشر بن محمد نور الحق بن الشيخ محمد يوسف

الميلاد: 4/12/1964م

مكان الميلاد: كراتشي باكستان

بداية طلبي للعلم:

بدأت مسيرة طلبي للعلم من الكتاب، وقرأت القرآن الكريم نظرا لدى الشيخ عبد الشكور رحمه الله تعالى، وذلك في مدرسة بـ " شيتاغونغ كالوني " في كراتشي، وقرأت مع ذلك بعض المبادئ من الكتب الأردية.ثم بعد الفراغ من القرآن الكريم نظرا بدأت بحفظه عن ظهر القلب، وذلك لدى الحافظ أمين الرحمن رحمه الله تعالى.

ثم انقلبت الظروف والأحوال وتحولنا من مكان إلى مكان، ولكني أكملت القرآن الكريم على أيدي بعض الأساتذة. ولكني كنت في أمس الحاجة إلى المراجعة في مكان مستقر هادئ البال، فيسر الله لي ذلك في جامعة دار العلوم كراتشي، فالتحقت بهذه الجامعة، وجلست بين يدي الأستاذ الكريم الشيخ القارئ محمود أحمد المتوفي حاليا قبل شهر، رحمه الله تعالى. فأكملت القرآن الكريم بعد المراجعة لديه بكل اطمئنان واستقرار.

وفي عام 1975م- 1976م التحقت بالصف الإعدادي في نفس الجامعة، وأنهيت هذه السنة الدراسية بكل إقبال، ونجحت في الاختبار النهائي بدرجة امتياز مع مرتبة الشرف ولله الحمد.

وكان عليَّ الاستمرار في هذه المسيرة، ولكن قدر الله أن عزم أبواي السفر إلى بلاد الحرمين، فهاجرا وأنا معهما إلى مكة المكرمة، وذلك في رمضان 1396هـ الموافق 1976م.فوصلت مكة المكرمة، وانقطعت كليا عن الدراسة ومضى على ذلك ستة أشهر أو أكثر، فتوجه بعض أقاربي جزاه الله خيرا كثيرا إلى بطالتي، فأخذ بيدي ووصَّلني إلى الأستاذ العطوف الأستاذ محمد يوسف منير الزمان حفظه الله تعالى، بالمسجد الجنوبي بالنكاسة، فراجعت القرآن الكريم بعد ما كنت أنسيتها في الفترة، وقدمت اختبار عشرين جزءا من القرآن الكريم بمشروع جماعة تحفيظ القرآن الكريم، وقد كنت مستعدا لكامل القرآن ولكن بعض المصالح عاقت دون ذلك، فقدمت اختبار كامل القرآن في العام القابل، وحزت ولله الحمد على 99 درجة من المائة، وذلك كله بفضل الله ثم بجهود الأستاذ الكريم الذي كان لا يتوانى في تقديم طلابه إلى ما فيه صلاحهم وخيرهم، جزاه الله خير الجزاء وأوفاه وأوفره.

ولما انشغلت بالقرآن الكريم مساء، وأكون فارغا في الفترة الصباحية التفت بعض أحباب أخي الأكبر وذهب بي إلى المدرسة التوحيدية بجبل أبي شدادين، وكانت الإدارة آنذاك بيد الأستاذ الجليل والمحدث الكبير والعلامة النبيل الشيخ عبد السبحان نور الدين واعظ والد الدكتور محب الدين، رحمه الله تعالى رحمة واسعة، فسجلوني في الصف الثالث الابتدائي، وكان ذلك في منتصف العام الدراسي، فاستفدت من كل من الأستاذ عبد المالك أمجد، والأستاذ إنعام الله، والأستاذ عبد السلام سلطان، والأستاذ نور الزبير حفظهم الله تعالى.

فأنهيت العام الدراسي هذا، والتحقت في العام المقبل بمدرسة سعد بن أبي وقاص الابتدائية الحكومية، فأثمرت جهود أساتذتي فيَّ؛ حيث قُبِلت بعد الاختبار في الصف الخامس، وذلك بعد إجراء اختبارات.

وساهمت في هذه المدرسة في المسابقات، وأكرمني الله بالشرف في جميع المسابقات، وقد كان الأستاذ علي بن سعيد العتبي مدير المدرسة جد عطوف علي، حتى إنه عرض علي أن أقدم اختبار الصف السادس الابتدائي، ولم أكن أدرك مغزاه، بأنه يريد أن يوفر علي سنة دراسية كاملة، فرفضت بكل بساطة ورددت عليه بأني مستعد للدراسة في العام المقبل وأدرس الصف السادس مستقلا.

ولكن عرفت ربي بفسخ العزائم، ففي نهاية العام الدراسي - بل وبالضبط بعد شهر رمضان 1398هـ، أي بعد سنتين كاملتين - عزمنا على العودة إلى باكستان؛ إذ لم نكن نظاميين في المملكة، وظهرت بعض التشديدات من قبل الجوازات فعزم أبواي العودة إلى باكستان، فرجعت معهما.

وكانت بداية السنة الدراسية، فالتحقت بجامعة دار العلوم كراتشي وبدأت مسيرتي التعليمية من الصف الذي تركته، وإني أحمد الله سبحانه وتعالى أن وفقني لإكمال المراحل التعليمية بكل انتظام.

والدراسة في جامعة دار العلوم حسب المنهاج النظامي السائد في شبه القارة الهندية على أربع مراحل، كل مرحلة تحتوي على سنتين:

المرحلة الثانوية العامة المعادلة بالصف العاشر الحكومي (Matric)

والمرحلة الثانوية الخاصة ، المعادلة بالصف الثاني عشر (F.A.)

والمرحلة العالية، المعادلة بالبكالوريوس (B.A.)

والمرحلة العالمية، المعادلة بالماجستير في العلوم الإسلامية والعربية (M.A.)

ويضم هذا المنهج من المواد والكتب حسب مقررات المشايخ القدامى: مبادئ اللغة الفارسية، وكتب قواعداللغة العربية من النحو والصرف، والأدب العربي، والفقه وأصوله، وكتب الحديث وأصوله، والتفسير وأصوله، وكتب السيرة والأخلاق، والعقيدة، والمنطق، والفلسفة القديمة والجديدة.

وتختص السنة الأخيرة منها لدراسة أمهات الكتب الستة بالإضافة إلى بعض الكتب الحديثية الأخرى.

وفي كل سنة دراسية ثلاثة اختبارات جزت هذه المراحل كلها بحمد الله بكل نشاط وأكرمني الله بالنجاح الباهر في جميع الاختبارات بامتياز وتفوق ومرتبة الشرف الأولى لا في فصلي فحسب، بل على مستوى الجامعة أيضا. وفي السنة النهائية كان الاختبار تحت رقابة " وفاق المدارس العربية " (وهو أكبر هيئة تعليمية تضم آلافا مؤلفة من المدارس والجامعات الدينية على نطاق باكستان مدنها وقراها ) فأكرمني الله بفضل منه وإنعام خاص ثم بجهود أساتذتي وشيوخي الأبرار بالنجاح الواضح، حيث شرفني الله بمرتبة الشرف الأولى على مستوى باكستان. اللهم لك الحمد كما ينبغي لجلال وجهك وعظيم سلطانك. أسأل الله سبحانه وتعالى أن يكرمني بالفوز في الحياة الأخروية.

مما من الله علي دون استحقاق مني:

أن كانت عناية أساتذتي بي كبيرة جدا منذ بداية الطلب، فلقيت منهم كل تشجيع على كل أمر صغيرا كان أو كبيرا.

ومن غاية العناية بي ما خصني أحد أساتذتي الأكارم، ألا وهو العلامة الشيخ رشيد أشرف حفظه الله تعالى، نجل العلامة المبدع العملاق الشيخ نور أحمد الأركاني رحمه الله تعالى، (ختن كبير مفتي هذه الديار العلامة الفقيه المعروف بالمفتي الأعظم محمد شفيع قدس الله روحه ، مؤسس جامعة دار العلوم كراتشي )حيث ضمني إلى نفسه وجعلني أخص أًصحابه، فكان يملي علي إفادات ودروس العلامة المحقق المحدث الفقيه الشيخ محمد تقي العثماني، حفظه الله تعالى، وكنت أضبط ذلك وأنا في السنة الثانية من المرحلة الثانوية العامة، ثم تطور الأمر وأخذت باستخراج الإحالات من مصادر الكتب الحديثية ومراجعها الهامة. فلزمته طول مدة الطلب وبعد التخرج، فهداني أستاذي هذا إلى طريق العلم، وأنار لي دروب المعارف. جزاه الله خير ما يجزي به عباده المحسنين.

وبعد التخرج:

عينت بحمد الله تعالى مدرسا للثانوية العامة في نفس الجامعة، ودرَّست من المواد الكتب الفارسية، وقواعد اللغة العربية، والفقه الحنفي، وقمت بتدريب طلابي على الخطابة والكتابة باللغة العربية، فأنشأت ناديا عربيا، وأصدر طلاب هذا النادي أول مجلة جدارية باللغة العربية في تاريخ جامعة دار العلوم كراتشي.

كما عينوني في نفس الوفت عضوا في قسم التصنيف والتأليف بالجامعة، وفوض إلي فضيلة شيخي المفضال الشيخ محمد تقي العثماني حفظه الله تعالى – وهو المشرف على هذا القسم – ترجمة كتاب " الانتباهات المفيدة في حل الاشتباهات الجديدة " لحكيم الأمة الشيخ أشرف علي التهانوي رحمه الله تعالى، والكتاب وإن كان صغير الحجم، ولكنه كان دقيق المبنى، كثير المغزى، بعيد النفوذ، كبير الأثر، فبدأت ترجمته إلى اللغة العربية، فأكملت ترجمته في أيام يسيرة، فشجعني شيوخي وأحبابي كثيرا على هذا الإنجاز الكبير، وأظهروا رضاهم وسرورهم البالغ. وهذا الكتاب أصبح من المقررات الدراسية لدى وفاق المدارس العربية، يقرأ ويدرس في جميع مناطق باكستان. ولله الحمد.

وبعد الفراغ من هذا العمل فوض إلي شيخي كتاب "فتح الملهم بشرح صحيح مسلم" للعلامة الألمعي الشيخ شبير أحمد العثماني رحمه الله تعالى، وكان الكتاب مطبوعا على الحجر، وما كان يلائم وعصرنا المتحضر الذي اعتاد أن لا يقرأ الكتاب إلا في ثوب قشيب بالتصفيف على آلات الحاسوب والكمبيوتر، فأمرني أن أقوم بخدمة هذا الكتاب، فقمت بترقيم الكتاب وترقيم أحاديث صحيح مسلم طريقا طريقا، وتخريج أحاديث صحيح مسلم باستيعاب، ومراجعة نصوص الكتاب جزئيا. وقد طبع الكتاب من دار القلم بدمشق مع تكملته للشيخ محمد تقي العثماني حفظه الله تعالى.

وهكذا قضيت في رحاب هذه الجامعة وبين أحضان أساتذتي الكرام أربع سنوات، وبعد ذلك ساقني القدر إلى مركز علمي آخر أسسه شيخنا العلامة سحبان محمود رحمه الله تعالى، شيخ الحديث بجامعة دار العلوم كراتشي، فأمرني بالانتقال إليه، وقضيت هناك ثلاث سنوات، مدرسا لكتب الفقه والقواعد، مع العكوف على التصنيف والتأليف، فرتبت هناك أمالي ودروس شيخنا سحبان محمود على صحيح البخاري، وطبع منها مجلد باسم " درس بخاري" باللغة الأردية.

وبعد ثلاث سنوات انتقلت إلى صرح علمي آخر، وهو الجامعة الفاروقية إحدي أكبر الجامعات الدينية في باكستان، يرأسها سماحة العلامة الكبير الشيخ سليم الله خان مد الله في عمره في عافية، واشتغلت هناك مدرسا لكتب البلاغة والمعاني والأدب والفقه وأصوله، ثم بعد فترة خصوني بالحديث وعلومه، فدرست هناك أغلب الكتب الستة من سنن أبي داود، وسنن الترمذي، وسنن النسائي، وسنن ابن ماجه، والموطأ للإمام مالك برواية يحيى بن يحيى، وبرواية محمد بن الحسن الشيباني، وبعض المنتخبات من صحيح البخاري. كما أخذت في ترتيب وتحقيق دروس الشيخ سليم الله خان لصحيح البخاري، وهي حصيلة نصف قرن من دروسه لهذا الكتاب، فرتبت وراجعت وحققت هذا الكتاب وطبعت منها خمس مجلدات ضخام، باسم "كشف الباري عما في صحيح البخاري".

تأسيس معهد عثمان بن عفان:

وفي عام 1415هـ الموافق 1995م أنشأنا معهدا علميا باسم "معهد عثمان بن عفان"، وذلك لخدمة جميع المسلمين عامة ولخدمة الجالية الروهنجية خاصة، هذا المعهد أسسنا على أساس تعميم تعليم القرآن الكريم، ويرجع الفضل في تأسيسه بعد الله إلى فضيلة الدكتور محب الدين عبد السبحان، والأستاذ محمد يوسف منير الزمان، والدكتور إكرام الله إمداد، وغيرهم من أصحاب العلم من مكة المكرمة.

فبدأنا العمل بتعليم القرآن الكريم نظرا، ثم خطونا خطوة خطوة إلى الأمام، وإليكم مجمل مسيرتنا طيلة هذه المدة:

1- افتتاح قسمَي القاعدۃ والقرآن نظراً في مبنی مستأجر فی 26/ من شعبان 1415هـ الموافق 1995م .

2- افتتاح قسم تدريب المعلمين للقرآن، وذلك في 20 من شوال المکرم 1415هـ الموافق ۱۹۹5م .

3- افتتاح قسم تحفيظ القرآن الکريم للأطفال في ذي الحجة 1415هـ.

4- بدء الحلقة التعليمية والتربوية للکبار في ۱5/ محرم الحرام 1417هـ الموافق ۱۹۹۷م.

5- بدء قسم القرآن الکريم نظرا وحفظا للبنات خاصة في ۲۰/صفر 1417هـ، الموافق ۱۹۹۷م.

6- انتقال المعهد من المبنی المستأجر إلی البناء الجديد 1418هـ الموافق ۱۹۹۸م.

7- افتتاح المرحلة المتوسطة في 6 / شوال 1428هـ الموافق ۲۰۰۰م.

8- افتتاح السنة الأولی من المرحلة العامة وذلك في ۸/ شوال 1423هـ الموافق ۲۰۰۱م.

9- بدء السنة الأخيرة من الثانوية في قسم "العلوم" (SCIENCE)تحت الرقابة الدراسية الرسمية للمدارس الثانوية بإجازة منسقة من الحکومة، وذلك في ۲۸ / شوال المکرم 1425هـ الموافق ۲۰۰۳م.

10- بدء قسم الحاسوب في 5/ رجب ۱4۲۸هـ الموافق ۲۱/ يوليو ۲۰۰۳ م.

11- بدء المرحلة العامة والخاصة والعالية في 1428هـ، وقد ابتدأ

المرحلة العالمية السنة الأولی 1429هـ أيضا ولله الحمد.

12- بداية التخصص في اللغة العربية والإنجليزية وعلوم الحاسوب، في شوال 1430هـ

13- افتتاح السنة الثانية من المرحلة العالمية، وهي السنة النهائية التي تسمى "دورة الحديث"، وذلك في شوال 1431هـ، وبذلك تمت جميع المراحل الدراسية المختصة بالمنهج النظامي السائد في هذه الديار.

14- افتتاح قسم التخصص في الفقه والإفتاء، والتخصص في علوم الحديث، وذلك من بداية هذا العام الدراسي 1434هـ - 1435هـ.

لفتة إلی أقسام المعهد إجمالاً

للبنين:

(۱) قسم القاعدۃ والقرآن الکريم نظراً. (۲) قسم تحفيظ القرآن الکريم. (۳) قسم الروضة والابتدائية. (4) المدرسة الابتدائية. (5) المدرسة الثانوية. (6) المنهاج النظامي، (شهادة العالمية في العلوم الإسلامية والعربية) (7) قسم الدورة التدريبية لمعلمي القرآن (8) قسم علوم الحاسوب.

للبنات:

(۱) قسم القاعدۃ والقرآن الکريم نظراً. (۲) قسم تحفيظ القرآن الکريم. (۳) قسم الروضة والابتدائية. (4) المدرسة الابتدائية. (5) المرحلة المتوسطة. (6) قسم الدراسات الدينية.

الأقسام الأخرٰی للمعهد

(۱) مکتب عمادة التعليم (2) مكتب الحسابات (3) دارالتصنيف والتأليف (4) المکتبة العلمية (5) الدعوة والإرشاد (6) مجلة "المعهد" الشهرية (7) البناء والتطوير (۹) المرفق السکني (۱۰) إعاشة الطلاب (11) نشاطات طلابية (12)موقع المعهد.

هذا وما زلت أدرِّس في هذا المعهد، وإنني أدرس في المعهد الآن صحيح البخاري، ومشكاة المصابيح ، وشرح نخبة الفكر، ومقدمة ابن الصلاح وغيرها من كتب الحديث وأصوله، ولله الحمد.

وإن من عظيم منن الله تعالى علي أن قيض لي من الطلاب والتلامذة في هذه الفترة التي تنيف على ثماني وعشرين سنة في حقل التدريس ما يزيدون على عشرات الآلاف، وإن جلهم يلعبون دورا هاما في ميادين مختلفة في جميع أنحاء باكستان. فالحمد لله على ذلك.

مسئوليات ومناصب شغلتها سابقا أو أشغلها حاليا:

- مدرس جامعة دار العلوم كراتشي سابقا.

- مدرس جامعة أشرف العلوم كراتشي سابقا.

- أستاذ الحديث وعلومه والعلوم الشرعية الأخرى بالجامعة الفاروقية كراتشي.

- مندوب رئيس وفاق المدارس العربية.

- شيخ الحديث بمعهد عثمان بن عفان

- رئيس: مؤسسة الرازي للتعليم والخدمات الإنسانية (المسجلة رسميا من قبل الجهات المختصة)

- رئيس مدرسة الغزالي الثانوية (المسجلة رسميا من قبل الجهات المختصة)

- رئيس ومدير معهد عثمان بن عفان (المسجل رسميا من قبل الجهات المختصة)

- مدير مجلة " المعهد" الشهرية باللغة الأردية

- مشرف قسم التخصص في الإفتاء وعلوم الحديث بمعهد عثمان بن عفان.

- خطيب الجامع الحقاني 36/بي لا ندهي كراتشي.

أعمالي وإنجازاتي العلمية:

- ترجمة كتاب " قيمة الزمن عند العلماء " إلى الأردية. (مطبوع).

- ترجمة كتاب العقيدة الطحاوية بالأردية.(مطبوع)

- ترجمة وتعليق كتاب "الانتباهات المفيدة في حل الاشتباهات الجديدة" للتهانوي .(عربي، مطبوع)

- ترجمة وتعليق كتاب " خير الأصول في حديث الرسول صلى الله عليه وسلم" للشيخ خير محمد الجالندهري (عربي، مطبوع).

- تحقيق وترقيم وتخريج كتاب "فتح الملهم بشرح صحيح مسلم" للعلامة شبير أحمد العثماني (ست مجلدات) مطبوع.

- ترتيب وتحقيق ومراجعة " كشف الباري عما في صحيح البخاري " للشيخ سليم الله خان (خمس مجلدات) (مطبوع)

- شرح العقيدة الطحاوية بالأردية. (قيد التصنيف)

- تحقيق كتاب " مقدمة في أصول الحديث " للشيخ عبد الحق المحدث الدهلوي مع "تعليقات البركتي" للشيخ عميم الإحسان البركتي.( قيد التحقيق)

- ترجمة فتوى "تحذير الأنام عن تغيير رسم الخط من مصحف الإمام" للمفتي الأعظم محمد شفيع رحمه الله تعالى (عربي، غير مطبوع).

- "تدريس الحديث الشريف لوازمه ومقتضياته" محاضرة ألقيتها في مناسبة اجتماع بعض المعلمين والمعلمات.( عربي، غير مطبوع).

- ترتيب وتحقيق وتكملة كتاب " نثر الأزهار على شرح معاني الآثار " للشيخ المحقق محمد أمين الأوركزئي. (قيد العمل)

- تعليقات على سنن أبي داود (عربي، قيد العمل)

- تحقيق وتصحيح "التعليق المحمود" حاشية سنن أبي داود للعلامة فخر الحسن الكنكوهي رحمه الله تعالى. (عربي، قيد العمل).

- دروس سنن أبي داود (أردو، غير مطبوع)

- المدخل إلى علوم الحديث. (عربي، غير مطبوع)

- المدخل إلى سنن أبي داود (عربي، غير مطبوع)

القضية الروهنجية:

إن القضية الروهنجية أصبحت الشغل الشاغل في باكستان أيضا، وإنني بحمد الله قمت مع بعض أصحابي بجولات متعددة شاملة، قابلنا فيها أصحاب العلم، ومسئولي الحكومة، وأصحاب السياسة الكبار، والشخصيات البارزة، وحاولنا جاهدين جادين تعريف القضية أمامهم، وإننا نحمد الله على أن وفقنا لذلك، حيث صدر القرار من كل من البرلمان ومجلس الشيوخ معا، ضد ما يقوم به الرهبان البوذيون وشعب بورما الحاقد بمساندة تامة من قبل حكومة بورما بما فيه من القوات المسلحة العسكرية والشرطية، والذي أدى إلى ذبح وقتل الشيوخ والشبان، والنساء والأطفال وتهجير بعضهم وتشريدهم وإحراق منازلهم ومزارعهم في أراكان المحتلة. كما وضحنا ذلك على صعيد الإعلام الباكستاني المرئي والمقروء، ولله الحمد. ولا تزال هذه الجهود مستمرة، نسأل الله القبول، وأن يرزقنا إخلاص العمل، ويجنبنا من الرئاء والخطل.

أولادي:

رزقني الله تعالى من الأولاد ستة، أربعة أبناء وبنتان، وكلهم في طريق طلب العلم، جعلهم الله من العلماء العاملين النافعين للشعب الروهنجي خاصة وللأمة المسلمة عامة.

هذا وصلى الله وسلم وبارك على سيدنا محمد وعلى آله وصحبه وتابعيهم ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين.

تعریف موجز للعلامة نور البشر بن محمد نور الحق بن المفتي الشيخ محمد يوسف اليوسفي -حیاته وتآليفه-

-حیاته وتآليفه-

ولد في الرابع من ديسمبر 1964م، بكراتشي باكستان.
تلقى العلم بدءا بحفظ القرآن الكريم عن ظهر القلب لدى الأستاذ القارئ محمود أحمد بجامعة دار العلوم كراتشي، ثم التحق لدراسة الكتب بنفس الجامعة، حتى تخرج في العلوم الإسلامية والعربية على يدي أساتذة عباقرة أمثال العلامة الشيخ سحبان محمود، والشيخ شمس الحق والشيخ القارئ رعاية الله، والشيخ غلام محمد والشيخ المفتي محمد رفيع العثماني وشقيقه شيخ الإسلام محمد تقي العثماني، وحاز مرتبة الشرف الأولى في الاختبار النهائي المنعقد تحت إشراف وفاق المدارس العربية باكستان على نطاق باكستان.

ثم عين مدرسا وعضو قسم التصنيف بنفس الجامعة، فدرّس وصنّف، واشتغل هناك عدة سنوات وأول عمل ظهر له هو نقل كتاب حكيم الأمة مجدد الملة الشيخ أشرف علي التهانوي " الانتباهات المفيدة في حل الاشتباهات الجديدة" من اللغة الأردية إلى العربية، ثم عمل على كتاب فتح الملهم بشرح صحيح مسلم لشيخ الإسلام العلامة شبير أحمد العثماني، وقد كان طبع الكتاب على الحجر، فقدم الكتاب في ثوب قشيب حسب مذاق أهل العصر، وقد طبع الكتاب بخدمته من دار القلم بدمشق، ودار إحياء التراث العربي ببيروت.

ثم انتقل حسب أوامر أستاذه الشيخ سحبان محمود إلى جامعة أشرف العلوم كورنكي كراتشي، ودرّس هناك عدة سنوات، وقام بترتيب وتحقيق أمالي الشيخ سحبان محمود على صحيح البخاري، وطبع منه مجلد واحد. ثم ساقه القدر إلى العلامة شيخ شيوخ الحديث في هذه الديار الشيخ سليم الله خان، فأصبح أستاذا لديه وعضو هيئة التصنيف بالجامعة الفاروقية بكراتشي، فدرّس برهة من الزمان كتبا شتى في مختلف العلوم والفنون، ثم اختص بتدريس كتب الحديث مثل سنن النسائي وسنن ابن ماجه والموطأ برواية يحيى بن يحيى وبرواية محمد بن الحسن الشيباني، وإنه يدرس حاليا السنن للإمام أبي داود منذ عدة سنوات، كما أنه هو الذي افتتح قسم التخصص في علوم الحديث بالجامعة المذكورة. واشتغل مع ذلك بقسم التصنيف وعمل بكل جدارته في ترتيب وتحقيق أمالي الشيخ سليم الله خان على كتاب صحيح البخاري المسمى "كشف الباري عما في صحيح البخاري".

هذا ومع أشغاله هذه قد أسس معهدا علميا وقد أصبح هذا المعهد صرحا علميا هائلا بمبناه الرشيق ونُظُمه التعليمية وتربيته أبناء المسلمين تربية دينية. وإن فضيلته - وهو شاب - يعد من المراجع الهامة في علوم الحديث وعلوم العربية، وله شغف بعلم الأسانيد، ولديه إجازات من فحول علماء عصره.

Wednesday, 6 August 2014

سرمایۂ گراں مایہ -وقت کی قدر وقیمت ایک انمول کتاب-

خوبصورت دیدہ زیب ٹائٹل، اعلیٰ سفید انڈونیشین کاغذ، اور عربی کتب کی خصوصیات سے مزین فارمیٹنگ کے ساتھ۔
نام کتاب: سرمایۂ گراں مایہ
مترجم: مولانا نور البشر محمد نور الحق صاحب
صفحات:128
ڈائمنشن: 7×9ء5
اشاعت: مئی 2014
موجود تعداد: 1100

اقتباس از دیباچۂ طبعِ اوّل

طلبہ کی برادری میں کسل مندی اور سستی کے رجحان میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے، اس کو دیکھتے ہوئے ضرورت محسوس ہورہی تھی کہ کوئی ایسی کتاب ہو، جس میں وقت کی اہمیت کا بیان ہواور سلف کے واقعات درج ہوں۔ ویسے تو سلفِ صالحین کے واقعات پر مشتمل مختصر مگر جامع کتاب ”علماءِ سلف“ اور اس کا تتمہ ”نابینا علماء“ متداول ہے لیکن ضرورت تھی کہ خاص وقت کی قدر و قیمت پر مستقل تصنیف ہو، اتفاق سے ایسی کتاب اردو تو اردو عربی میں بھی نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ ہمارے شیخ محدّثِ فاضل، محبّ سلفِ صالح، حضرت الشیخ عبد الفتّاح ابو غدة حفظہ اللہ کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ انہوں نے اپنے وسیع مطالعہ کے دوران ایسے عجیب اور حیرت انگیز واقعات جمع کیے کہ ان سے سلف کی قدردانیِ وقت کا اظہار ہوتا ہے، جو وقت کی قدر کرنے والوں کے لیے روشنی کا مینار ہیں، ان واقعات کو سیکڑوں کتابوں سے جمع کرکے ان کو نہایت خوبی سے مرتب کردیا، وقت کی اہمیت پر مقدمہ لکھا اور واقعات کے درمیان اپنے زوردار تبصروں سے ان کی قیمت کو کہیں سے کہیں پہنچادیا۔
پھر حضرت شیخ عبد الفتاح ابو غدۃ حفظہ اللہ تعالیٰ کی کتابوں کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ ان کی ہر تصنیف یا تحقیق میں نفاست اور شستگی تو ہوتی ہی ہے، کوئی بات بغیر حوالہ کے نہیں لکھتے، اس کے ساتھ ساتھ ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اکابرِ سلف کا تذکرہ صرف سرسری طور پر نہیں بلکہ عقیدت میں ڈوب کر لکھتے ہیں۔ یہ انداز قاری کے دل میں بڑا اثر انداز ہوتا ہے۔ علماءِ سلف نے شیوخ و اساتذہ کے جو آداب بیان کیے ہیں، حضرت شیخ ان آداب کو صرف اپنے براہ راست اساتذہ ہی کے ساتھ مختص نہیں کرتے بلکہ جن حضرات سے بالواسطہ استفادہ ہوتا ہے، ان کے ساتھ بھی مکمل طور پر ان آداب کی رعایت رکھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کی کتابوں کے انوار کوقاری اپنے دل میں محسوس کرتا ہے۔
نمونہ

Friday, 1 August 2014

شکرِ نعمتِ دین

شکرِ نعمتِ دین (تاریخ: یکم اگست 2014ء)

Thursday, 31 July 2014

بیان عید الفطر 1435ه‍

بیان عید الفطر 1435ه‍( 01-08- 2014)

نمازِ عید الفطر ودعا - 1435ه‍

نمازِ عید الفطر ودعا - 1435ه‍‍

Monday, 28 July 2014

رمضان (1435ہجری) کے بیانات


حضرت شیخ کے رمضان کے خصوصی بیانات۔ یہ بیانات جامع مسجد حقانی میں بعد نمازِ ظہر ہوتے ہیں۔
نوٹ: بیانات سننے کے لیے براؤزر کا تازہ ترین ورژن استعمال کریں۔
تاریخ موضوع سنیئے ڈانلوڈ کیجیے
یکم رمضان 1435ھ ایمان کا اثر اور بد اعمالی کا نتیجہ
https://bc06cfef1ad5347d31ba6936d16f428a2ac3b37f.googledrive.com/host/0B8oJV0-LT9GBVktlSE00SVdZUWM/%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A7%D8%AB%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%A8%D8%AF%20%D8%A7%D8%B9%D9%85%D8%A7%D9%84%DB%8C%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%86%D8%AA%DB%8C%D8%AC%DB%81.mp3
https://drive.google.com/file/d/0B8oJV0-LT9GBc0VyY2lodHJlemM/edit?usp=sharing
2 رمضان 1435ھ جنت میں لے جانے والے اعمال
https://bc06cfef1ad5347d31ba6936d16f428a2ac3b37f.googledrive.com/host/0B8oJV0-LT9GBVktlSE00SVdZUWM/%D8%AC%D9%86%D8%AA%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%84%DB%92%20%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92%20%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92%20%D8%A7%D8%B9%D9%85%D8%A7%D9%84.mp3
https://drive.google.com/file/d/0B8oJV0-LT9GBSUNmMWVYOFlobVE/edit?usp=sharing
3 رمضان 1435ھ حاجت براری وسترپوشیٔ مسلم
https://bc06cfef1ad5347d31ba6936d16f428a2ac3b37f.googledrive.com/host/0B8oJV0-LT9GBVktlSE00SVdZUWM/%D8%AD%D8%A7%D8%AC%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%B1%DB%8C%20%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%B1%20%D9%BE%D9%88%D8%B4%DB%8C%20%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85.mp3
https://drive.google.com/file/d/0B8oJV0-LT9GBSUNmMWVYOFlobVE/edit?usp=sharing
4 رمضان 1435ھ حیا ایمان کا حصہ ہے
https://bc06cfef1ad5347d31ba6936d16f428a2ac3b37f.googledrive.com/host/0B8oJV0-LT9GBVktlSE00SVdZUWM/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%20%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%AD%D8%B5%DB%81%20%DB%81%DB%92.mp3
https://drive.google.com/file/d/0B8oJV0-LT9GBSUNmMWVYOFlobVE/edit?usp=sharing
5 رمضان 1435ھ ظالم کا ساتھ دینے والے کا انجام
https://bc06cfef1ad5347d31ba6936d16f428a2ac3b37f.googledrive.com/host/0B8oJV0-LT9GBVktlSE00SVdZUWM/%D8%B8%D8%A7%D9%84%D9%85%20%D9%83%D8%A7%20%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE%20%20%D8%AF%DB%8C%D9%86%DB%92%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A7%D9%86%D8%AC%D8%A7%D9%85.mp3
https://drive.google.com/file/d/0B8oJV0-LT9GBSUNmMWVYOFlobVE/edit?usp=sharing
6 رمضان 1435ھ قیامت وعلامات قيامت https://bc06cfef1ad5347d31ba6936d16f428a2ac3b37f.googledrive.com/host/0B8oJV0-LT9GBVktlSE00SVdZUWM/%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D9%88%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D9%82%D9%8A%D8%A7%D9%85%D8%AA.mp3
https://drive.google.com/file/d/0B8oJV0-LT9GBSUNmMWVYOFlobVE/edit?usp=sharing
7 رمضان 1435ھ قیامت کا منظر https://bc06cfef1ad5347d31ba6936d16f428a2ac3b37f.googledrive.com/host/0B8oJV0-LT9GBVktlSE00SVdZUWM/%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D9%83%D8%A7%20%D9%85%D9%86%D8%B8%D8%B1%201.mp3
https://drive.google.com/file/d/0B8oJV0-LT9GBSUNmMWVYOFlobVE/edit?usp=sharing
8 رمضان 1435ھ نفاق اور منافقانہ خصلتیں https://bc06cfef1ad5347d31ba6936d16f428a2ac3b37f.googledrive.com/host/0B8oJV0-LT9GBVktlSE00SVdZUWM/%D9%86%D9%81%D8%A7%D9%82%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D9%85%D9%86%D8%A7%D9%81%D9%82%D8%A7%D9%86%DB%81%20%D8%AE%D8%B5%D9%84%D8%AA%DB%8C%DA%BA.mp3
https://drive.google.com/file/d/0B8oJV0-LT9GBSUNmMWVYOFlobVE/edit?usp=sharing
9 رمضان 1435ھ ایمان کے مخالف امور https://bc06cfef1ad5347d31ba6936d16f428a2ac3b37f.googledrive.com/host/0B8oJV0-LT9GBVktlSE00SVdZUWM/%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D8%AE%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%A7%D9%85%D9%88%D8%B1.mp3
https://drive.google.com/file/d/0B8oJV0-LT9GBSUNmMWVYOFlobVE/edit?usp=sharing
10 رمضان 1435ھ ایمان واستقامت https://bc06cfef1ad5347d31ba6936d16f428a2ac3b37f.googledrive.com/host/0B8oJV0-LT9GBVktlSE00SVdZUWM/%D8%A5%D9%8A%D9%85%D8%A7%D9%86%20%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D9%82%D8%A7%D9%85%D8%AA.mp3
https://drive.google.com/file/d/0B8oJV0-LT9GBSUNmMWVYOFlobVE/edit?usp=sharing
11 رمضان 1435ھ رمضان ماہِ انقلاب وماہِ انفاق فی سبیل اللہ
https://bc06cfef1ad5347d31ba6936d16f428a2ac3b37f.googledrive.com/host/0B8oJV0-LT9GBVktlSE00SVdZUWM/%D8%B1%D9%85%D8%B6%D8%A7%D9%86%20%D9%85%D8%A7%D9%87%20%D8%A7%D9%86%D9%82%D9%84%D8%A7%D8%A8%20%20%D9%88%D9%85%D8%A7%D9%87%20%D8%A5%D9%86%D9%81%D8%A7%D9%82%20%D9%81%D9%8A%20%D8%B3%D8%A8%D9%8A%D9%84%20%D8%A7%D9%84%D9%84%D9%87.mp3
12 رمضان 1435ھ عالمِ برزخ وقبر https://bc06cfef1ad5347d31ba6936d16f428a2ac3b37f.googledrive.com/host/0B8oJV0-LT9GBVktlSE00SVdZUWM/%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%20%D8%A8%D8%B1%D8%B2%D8%AE%20%D9%88%D9%82%D8%A8%D8%B1.mp3
https://drive.google.com/file/d/0B8oJV0-LT9GBSUNmMWVYOFlobVE/edit?usp=sharing
13 رمضان 1435ھ علانیہ گناہ معاف نہیں https://bc06cfef1ad5347d31ba6936d16f428a2ac3b37f.googledrive.com/host/0B8oJV0-LT9GBVktlSE00SVdZUWM/%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%20%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%81%20%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA.mp3
https://drive.google.com/file/d/0B8oJV0-LT9GBSUNmMWVYOFlobVE/edit?usp=sharing
14 رمضان 1435ھ قیامت کے دن حقوق العباد https://bc06cfef1ad5347d31ba6936d16f428a2ac3b37f.googledrive.com/host/0B8oJV0-LT9GBVktlSE00SVdZUWM/%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%20%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%81%20%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA.mp3
https://drive.google.com/file/d/0B8oJV0-LT9GBSUNmMWVYOFlobVE/edit?usp=sharing
15 رمضان 1435ھ قیامت اور حساب كتاب كي آساني https://bc06cfef1ad5347d31ba6936d16f428a2ac3b37f.googledrive.com/host/0B8oJV0-LT9GBVktlSE00SVdZUWM/%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%20%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%81%20%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA.mp3
https://drive.google.com/file/d/0B8oJV0-LT9GBSUNmMWVYOFlobVE/edit?usp=sharing
16 رمضان 1435ھ حوض كوثر اور دين میں تبدیلی کرنے والے https://bc06cfef1ad5347d31ba6936d16f428a2ac3b37f.googledrive.com/host/0B8oJV0-LT9GBVktlSE00SVdZUWM/%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%20%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%81%20%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA.mp3
https://drive.google.com/file/d/0B8oJV0-LT9GBSUNmMWVYOFlobVE/edit?usp=sharing
17 رمضان 1435ھ پل صراط اور اس کی ہولناکی https://bc06cfef1ad5347d31ba6936d16f428a2ac3b37f.googledrive.com/host/0B8oJV0-LT9GBVktlSE00SVdZUWM/%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%20%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%81%20%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA.mp3
https://drive.google.com/file/d/0B8oJV0-LT9GBSUNmMWVYOFlobVE/edit?usp=sharing
جمعۃ المبارك 18 رمضان 1435ھ رمضان اور عشره اعتكاف-بیانِ جمعہ- https://bc06cfef1ad5347d31ba6936d16f428a2ac3b37f.googledrive.com/host/0B8oJV0-LT9GBVktlSE00SVdZUWM/%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%20%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%81%20%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA.mp3
https://drive.google.com/file/d/0B8oJV0-LT9GBSUNmMWVYOFlobVE/edit?usp=sharing
19 رمضان 1435ھ توبہ فطرت بني آدم اور ذريعة سعادت https://bc06cfef1ad5347d31ba6936d16f428a2ac3b37f.googledrive.com/host/0B8oJV0-LT9GBVktlSE00SVdZUWM/%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%20%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%81%20%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA.mp3
https://drive.google.com/file/d/0B8oJV0-LT9GBSUNmMWVYOFlobVE/edit?usp=sharing
20 رمضان 1435ھ گناہگار بندہ اور اللہ کا کرم https://bc06cfef1ad5347d31ba6936d16f428a2ac3b37f.googledrive.com/host/0B8oJV0-LT9GBVktlSE00SVdZUWM/%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%20%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%81%20%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA.mp3
https://drive.google.com/file/d/0B8oJV0-LT9GBSUNmMWVYOFlobVE/edit?usp=sharing
21 رمضان 1435ھ خوف و خشيت خداوندی اور سایۂ عرش الهي https://bc06cfef1ad5347d31ba6936d16f428a2ac3b37f.googledrive.com/host/0B8oJV0-LT9GBVktlSE00SVdZUWM/%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%20%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%81%20%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA.mp3
https://drive.google.com/file/d/0B8oJV0-LT9GBSUNmMWVYOFlobVE/edit?usp=sharing
22 رمضان 1435ھ موت كي تياری اور عمل صالح كی قدر وقیمت https://bc06cfef1ad5347d31ba6936d16f428a2ac3b37f.googledrive.com/host/0B8oJV0-LT9GBVktlSE00SVdZUWM/%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%20%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%81%20%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA.mp3
https://drive.google.com/file/d/0B8oJV0-LT9GBSUNmMWVYOFlobVE/edit?usp=sharing
23 رمضان 1435ھ فتنوں اور مشکلات سے قبل عمل کر لو https://bc06cfef1ad5347d31ba6936d16f428a2ac3b37f.googledrive.com/host/0B8oJV0-LT9GBVktlSE00SVdZUWM/%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%20%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%81%20%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA.mp3
https://drive.google.com/file/d/0B8oJV0-LT9GBSUNmMWVYOFlobVE/edit?usp=sharing
24 رمضان 1435ھ خشيت خداوندی باعث نجات آخرت https://bc06cfef1ad5347d31ba6936d16f428a2ac3b37f.googledrive.com/host/0B8oJV0-LT9GBVktlSE00SVdZUWM/%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%20%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%81%20%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA.mp3
https://drive.google.com/file/d/0B8oJV0-LT9GBSUNmMWVYOFlobVE/edit?usp=sharing
26 رمضان 1435ھ آخرت بمقابلہ دنیا https://bc06cfef1ad5347d31ba6936d16f428a2ac3b37f.googledrive.com/host/0B8oJV0-LT9GBVktlSE00SVdZUWM/%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%20%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%81%20%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA.mp3
https://drive.google.com/file/d/0B8oJV0-LT9GBSUNmMWVYOFlobVE/edit?usp=sharing
27 رمضان 1435ھ اصلاح معاشرہ اور جوانوں کا کردار بیان ختم قرآن دعا https://bc06cfef1ad5347d31ba6936d16f428a2ac3b37f.googledrive.com/host/0B8oJV0-LT9GBVktlSE00SVdZUWM/%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%20%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%81%20%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA.mp3
https://drive.google.com/file/d/0B8oJV0-LT9GBSUNmMWVYOFlobVE/edit?usp=sharing
جمعۃ الوَدَاع 27رمضان 1435ھ -بیانِ جمعة الوَداع- قدر بقيه أيام رمضان https://bc06cfef1ad5347d31ba6936d16f428a2ac3b37f.googledrive.com/host/0B8oJV0-LT9GBVktlSE00SVdZUWM/%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%20%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%81%20%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA.mp3
https://drive.google.com/file/d/0B8oJV0-LT9GBSUNmMWVYOFlobVE/edit?usp=sharing
28 رمضان 1435ھ دخولِ جنت برحمتِ خداوندی https://bc06cfef1ad5347d31ba6936d16f428a2ac3b37f.googledrive.com/host/0B8oJV0-LT9GBVktlSE00SVdZUWM/%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%20%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%81%20%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA.mp3
https://drive.google.com/file/d/0B8oJV0-LT9GBSUNmMWVYOFlobVE/edit?usp=sharing
29 رمضان 1435ھ رؤية باري رضاء خاوندي اور مداومت عمل https://bc06cfef1ad5347d31ba6936d16f428a2ac3b37f.googledrive.com/host/0B8oJV0-LT9GBVktlSE00SVdZUWM/%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%20%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%81%20%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA.mp3
https://drive.google.com/file/d/0B8oJV0-LT9GBSUNmMWVYOFlobVE/edit?usp=sharing

 

Subscribe to our Newsletter

Contact our Support

Email us: